quran-and-light

تعارف قرآن – آخری قسط

پاروں  کی تقسیم :

1                   پہلا پارہ ‘الم’ کے نام سے موسوم ہے اس میں سورہ فاتحہ اور سورہ بقرہ کی 141 آیا ت ہیں ۔

2                   دوسرا پارہ ‘سیقول’ کے نام سے موسوم ہے یہ کل کا کل سورہ بقرہ کی 111 آیات پر مشتمل ہے یعنی آیت نمبر 142 تا آیت نمبر 25 تک

3                   تیسرا پارہ ‘ تلک الرسل ‘کے نام سے موسوم ہے اس میں پہلے سورہ بقرہ کی آخری 34 آیات شامل ہیں اور اس کے بعد سورہ آل عمران کی 91 آیت اس پارہ کا حصہ ہیں۔

4                   چوتھا پارہ ‘لن تنالوا’ کے نام سے موسوم ہے اسکا اکثرو بیشتر حصہ سورہ آل عمران پر مشتمل ہے ۔ یعنی آیت  نمبر 92 سے آیت نمبر 200 تک ، آخر میں 23 آیات سورۃ النساء  کی اس پارہ میں شامل ہیں ۔

5                   پانچواں پارہ  ‘والمحصنت ‘ کے نام سے موسوم ہےیہ پورا کا پورا سورہ النساء پر مشتمل ہے ۔ یہ سورہ مبارکہ 176 آیا ت پر مشتمل ہےجن  جن میں سے 23 آیات چوتھے پارہ میں آجاتی ہیں اور اس میں 124 آیات ہیں ۔

6                   چھٹا پارہ ‘لایحب اللہ ‘ کے نام سے موسوم ہے اس میں پہلے سورہ نساء کی بقایا 29 آیات اور سورہ مائدہ کی 182 آیات ہیں ۔

7                   ساتواں پارہ  ‘وَاذا سمعوا’  کے نام سے موسوم ہے ،ابتدا میں سورہ مائدہ کی بقایا 38 آیات اور سورۃ الانعام کی 110آیات شامل ہیں۔

8                   آٹھواں پارہ’ولواننا’ کے نام سےموسوم ہے ابتدا میں سورۃالانعام کی 55 آیات اور پھر سورۃ الاعراف کی 87 آیات ہیں ۔

9                   نواں پارہ ‘قال الملا’ کے نام سے موسوم ہے ۔ اس میں اولاً سورۃ الاعراف کی بقایا 119 آیات اور اس کے بعد سورہ الانفال کی چالیس آیات شامل ہیں ۔

10              دسواں پارہ  ‘واعلموا’ کے نام سے موسوم ہے اس میں آغاز میں سورہ توبہ کی بقایا 36 آیات پھر پوری سورہ یونس اور آخر میں سورہ یونس اورآخر میں ہود کی صرف 5 آیات شامل ہیں۔

11              گیارہواں  پارہ ‘ یعتذرون’ کے نام سے موسوم ہے۔ اس میں سورہ توبہ کی بقایا 36 آیات پھر پوری سورہ یونس اورآخر میں سورہ  ہود کی  صرف 5 آیات شامل ہیں ۔

12              بارہواں پارہ ‘ومامن دابہ’ کے نام سےموسوم ہے اس کے نصف سے زائد پر سورہ ہود یعنی پھیلی ہوئی ہے اور بقیہ حصے میں سورہ یوسف کا تقریباً نصف حصہ  شامل ہے ۔

13              تیرہواں پارہ ‘وماابری’ کے نام سے موسوم ہے ۔اس کے آغاز میں سورۃ یوسف کا بقیہ حصہ بھی ہے اس کے بعد دونسبتاً چھوٹی سورۃ الرعد اور سورۃ ابراہیم  پوری پوری اور آخر میں آیت  سورۃ حجر کی شامل ہے۔

14              چودہواں پارہ ‘ربما’ کے نام سے موسوم ہے اس کے آغاز میں سورۃ حجر پوری یعنی پہلی آیت کو چھوڑ کر، اور پھر پوری سورۃ نحل شامل ہے۔

15              پندرہواں پارہ ‘سجن الذی ‘ کے نام سے موسوم ہے اس میں اولاً سورہ بنی اسرائیل مکمل یعنی 111 آیات پھر سورہ کہف کے تقریباً دو تہائی حصہ 110 آیات شامل ہیں ۔

16              سولہواں پارہ ‘قال المہ’ کے نام سے موسوم ہے اس کے نصف اول میں سورۃ الکہف کی بقیہ 36 آیات اورسورۃ مریم مکمل یعنی شامل ہیں اور اسکانصف آخر میں سورۃ طٰحہ پر مشتمل ہے ۔

17              سترھواں پارہ ‘اقترب الناس ‘ کے نام سے موسوم ہے اسکے نصف میں سورۃ النبیاء اورنصف میں سورۃ الحج ہے ۔

18              اٹھارہواں  پارہ ‘قدافلح’ کے نام سے موسوم ہے ۔اس میں دو سورتیں مکمل شامل ہیں یعنی سورۃ المومنوں اور سورۃ النور اور آخر میں 20 آیات  سورہ الفرقان کی ہیں ۔

19              انیسواں پارہ’وقال الذین ‘کے نام سے موسوم ہے اس میں اولاً سورۃ الفرقان کی بقیہ 57 آیات ،پھر سورہ شعراء مکمل اور آخر میں سورہ نمل کی ابتدائی 59 آیات شامل ہیں۔

20              بیسواں پارہ ‘امن خلق ‘ کے نام سے موسوم ہے۔ اس میں پہلے سورہ  نمل کی بقیہ 34 آیات ،پھر سورہ القصص مکمل اور پھر آخر میں سورہ العنکبوت کی پہلی 44 آیات۔

21              اکیسواں پارہ’اتل مااوحی’ کے نام سے موسوم ہے ۔ اس میں ابتدا سورۃ العنکبوت کی بقیہ 25 آیات ہیں ، پھر سورۃ روم ،پھر سورہ لقمان ،پھر سورہ السجدہ اور آخر میں سورۃ احزاب کی ابتدائی 30 آیات ہیں ۔

22              بائیسواں پارہ ‘ومن یقنت’ کے نام سے موسوم ہے ۔ اس میں اولاً سورہ الاحزاب کی بقیہ 33 آیات ہیں پھر سورہ سبا، پھر سورہ فاطر اور آخر میں سورہ یٰس کی 21 آیات شامل ہیں۔

23              تیسواں پارہ’ ومالی’ کے نام سے موسوم ہےاس کےآغاز میں سورہ ص  مکمل شامل ہے اور آخر میں الذمر کی 31 آیات شامل ہیں ۔

24              چوبیسواں پارہ ‘فمن اظلم ‘ کے نام سے موسوم ہے اس میں ابتداً سور ۃ الذمرہ کی 44 آیات ہیں پھر سورۃ مومن مکمل اور آخر میں حم السجدہ کی 46 آیات شامل ہیں ۔

25              پچیسواں پارہ ‘الیہ یرد’ کے نام سے موسوم ہے اس میں اولاً سورحم السجہ کی آخری 18 آیات اورپھر اس کے بعد چارہ سورتیں ،سورہ الشوری، سورہ الدخان ، سورہ الذحرف اور سورۃ الجاثیہ مکمل شامل ہیں ۔

26              چھبیسواں پارہ “حم” کے نام سے موسوم ہے اس میں اولاً سورہ الاحقاف ، پھر سورہ محمد ، سورہ الحجرات اور سورہ ق مکمل اور سورہ الذریت نصف شامل ہے ۔

27              ستائیسواں پارہ “قال فما خطبکم” کے نام سے موسوم ہے اس کے آغاز میں سورۃ الذاریت کا نصف ثانی ہے پھر سورہ الطور، پھر سورۃ النجم ،پھر سورۃ القمر ، پھر سورہ رحمن ،پھر سورہ واقعہ اورآخر میں سورہ احدید مکمل شامل ہے۔

28              اٹھائیسواں پارہ “قدسمع اللہ ” کے نام سےموسوم ہے ۔ اس میں تومدنی سورتیں شامل ہیں یعنی سورۃ المجادلہ ، سورۃ حشرہ ، سورۃ الممتحنہ ، سورۃ الصف، سورۃ الجمہ، سورہ منافقون ،سورۃ التغابن ،سورۃ التحریم  شامل ہیں ۔

29              انتسواں پارہ ،’تبرک الذی ‘ کے نام سےموسوم ہے۔ گیارہ سورتوںپر مشتمل ہے جوکہ تما م کی تمام یعنی سورہ ملک ،  سورہ قلم ، سورہ االحاقہ ،سورہ المعارج ،سورہ نوح ، سورہ جن، سورہ مزمل ،سورہ مدثر، سورہ قیامہ ،سورہ دھر اور سورہ مرسلت شامل ہیں ۔

30              تیسواں اور آخری  پارہ  ‘عّم ‘کے نام سےموسوم ہے ۔ اس میں چھوٹی بڑی 37 سورتیں شامل ہیں ۔

One thought on “تعارف قرآن – آخری قسط”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>